Wednesday, January 12, 2022

Murree Incident Jan 2022

 میں بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں پر لکھ نہیں پا رہی۔

دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہے ۔ مری کے حوالے سے تصاویر وڈیوز یا خبریں سنتی ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ کیسے اپنے آپ کو اس تمام سلسلے سے دور لے جاؤں۔ کبھی ان چار نوجوانوں کے چہرے سامنے آ جاتے ہیں اور کبھی وہ اپنے بابا کی گود میں بیٹھی حبا کی ْآواز کانوں میں گونجتی ہے ۔کبھی وہ مسکراتے ہوئے بچوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں کہ جو مری کی سیر پہ لطف اندوز ہونے پہ خوشی کا اظہار کر رہے تھے ۔

کبھي مقامی لوگوں کی بے حسی دل دکھانے لگتی ہے اور کبھی نااہل حکمرانوں کے بے نظمی اور نااہلی دل دکھاتی ہے ۔

ہم جانے کون سے جہاں میں ہیں اور کس چیز کے انتظار میں ہیں ۔اتنا ّعرصہ گزر گیا جانے ہم سب کون سے اچھے دنوں کے انتظار میں ہیں ۔ جو کوئی آتا ہے اپنا اپنا تجربہ آزماتا ہے اور اسی کھیل کھیل میں ستر سال گزار دیے ہیں ۔

نہ کوئی نظام ہے نہ کوئی ضابطہ حیات نہ دین کا پتہ نہ دنیا کا ۔ہم سب آدھے تیتر اور آدھے بٹیر ہیں ۔ابھی تک ہماری راہوں کا تعین نہیں ہو سکا تو منزل تک خاک پہنچیں گے ۔

دیکھا جائے تو یہ دنیا جسے میں مکڑی کا جالا کہتی ہوں ہی ہمیں گھیرے میں لے رہی ہے اور ہم جانے کون سے خیالوں میں ہیں کہ اس کی لچھے دار باتوں میں آ گئے ہیں ۔دنیا میں آنے کا اصل مقصد بھلا کے جانے کیا کیا کر رہے ہیں گویا یہی اصل منزل و ٹھکانہ ہو۔

دیکھا جائے تو سب ہی ایک عجب مدار میں گھوم رہے ہیں اپنے بس میں کچھ نہیں بس گھومتے گھومتے موت کے دروازے کو پار کر جاتے ہیں ۔ 

برف میں پھنسے ہوئے افراد کے ارد گرد کا پراسرار ماحول جیسے مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔اک عجب سے ویرانی ہے پر اسراریت ہے ۔کسی اور ہی جہاں کو لے جانے والا بھول بھلیاں جیسا رستہ۔۔۔

مجھے نہیں پتہ میں کیا لکھ رہی ہوں بس ۔۔۔

مری کے سانحہ کو دیکھ کے میری حالت خراب ہے مجھے وہ دن یاد دلا دیے جب میں بالاکوٹ میں جاب کرتی تھی ۔اسی طرح پہاڑوں کی چوٹیوں پہ بنے کچے پکے سکولوں میں جانا ہوتا تھا ۔ایک روز گھنول کے مسجد سکول میں جانا ہوا ہم لوگ جیپوں میں جایا کرتے تھے ۔ اسی طرح شدید برفباری تھی اور ہماری گاڑی اوپر سے بھی اوپر بلندی کی جانب رواں دواں تھی ۔ایک جگہ ایسا موڑ تھا کہ آگے جانا تو ناممکن تھا ہی پیچھے جانا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا ۔میرے ساتھ بالاکوٹ کے ماہر ڈرائیور بشیر لالا تھے ۔۔جب گاڑی پھسلنا شروع ہوئی تو بشیر لالا مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا سعدیہ بی بی میں نے دنیا دیکھ لی ۔مجھے اگر کچھ ہو بھی جاتا ہے تو ہو جائے آپ گاڑی سے چھلانگ لگا دو۔ میں انکاری ہو گئی کہ میں گاڑی سے نہیں اتروں گی ۔ جیپ آہستہ آہستہ پیچھے کی جانب پھسلتی جا رہی تھی نیچے کھائیوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور سامنے بس سفید پہاڑ برف اندھا دھند گرنے لگی اور بشیر لالہ نے تھوڑی سی جگہ تھی کہ بمشکل ایک بندہ کھڑا ہو سکتا مجھے دھکا دے کے گاڑی سے باہر اچھال دیا ۔ عجیب سی وحشت تھی ۔بشیر لالہ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گاڑی کو مسلسل روکنے کی جدوجہد میں تھے کہ جیپ یکدم پھسل کے ایک ننھے منے سے درخت کے ساتھ اٹک گئی ۔ میں پہلے ڈر کے یہ منظر دیکھتی رہی پھر نہ جانے کہاں سے میرے اندر طاقت آئی کہ میں نے اندھا دھند پیچھے بنے کچے رستے پہ بھاگنا شروع کر دیا ۔اور ساتھ ساتھ چیخ رہی تھی کوئی مدد کرو اللہ ہماری مدد کرو میں نے اپنے موبائل فون سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی سے بھی رابطہ نہ ہوا سوائے ایک نمبر کے مگر دوسری جانب سے فون کسی نے نہ اٹھایا نہ ہی میسجز کا جواب دیا۔۔۔اسی وقت نہ جانے کہاں سے دو افراد دکھائی دینے میں نے ان کو چیخ چیخ کے بلانا شروع کر دیا وہ موقع کی نزاکت کو سمجھ گئے پھر ان میں سے ایک نے  مخصوص انداز سے سیٹی بجائی کہ جو شاید یہ لوگ سگنل کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔آنا فاناً بہت سارے لوگ بھاگتے ہوئے جانے کہاں سے آ گئے  مجھے تو وہ انسان ہی نہیں لگ رہے تھے اور اس جیپ کی طرف لپکے کہ جو اس نازک سے درخت کے ساتھ اٹکی تھی ۔ ان لوگوں نے رسیاں پھینکیں گاڑی کو قابو کر کے اوپر کی طرف کھینچنا شروع کر دیا ساتھ ہی اللہ اکبر اللہ اکبر کی آوازوں سے پورا پہاڑی علاقہ گونج اٹھا ۔ وہ ایسا دل دہلا دینے والا منظر تھا کہ نہ پوچھیں اور اللہ اکبر کی ایسی دہشت و رعب تھا کہ دل  جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ برفباری بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔میں نے ڈر کے مارے پیچھے کی طرف اندھا دھند بھاگنا شروع کر دیا۔ارد گرد درختوں کے جھنڈ تھے ۔برف کی سفید چادر اوڑھے ۔۔طلسماتی اور پرہیبت منظر تھا ۔میں بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکی تھی ۔میرے ہاتھ پاؤں جم گئے تھے اور آنکھوں اور ناک پہ برف کرتی تو سب کچھ دھندلا سا جاتا۔۔خیر کافی دور تک بھاگتے بھاگتے ایک شخص کی ْآواز سنائی دی کہ جو مجھے روک رہا تھا ۔وہ بھاگتا ہوا میری طرف آیا اور اپنا تعارف کروایا کہ میں اس سکول کا پرنسپل ہوں جہاں آج ْآپ کی میٹنگ تھی ۔میں ڈر گئی یہ کہاں سے اس ویرانے میں آ گیا ۔مجھے تو وہ کوئی پراسرار مخلوق ہی لگا ۔خیر اس نے کہا آپ اس علاقے سے ناواقف ہیں ۔جب تک آپ کی جیپ اور ڈرائیور نہیں آتے میں آپ کو نیچے روڈ پہ چھوڑ دیتا ہوں ۔ میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے کرتے جانے کیسے اس چوٹی سے نیچے پہنچی میں نہیں جانتی ۔خیر روڈ پہ گھنول ہائی سکول ہے ۔وہاں پہ مجھے مقامی اساتذہ کرام نے بٹھایا چائے پلائی ۔ہمارے دفتر میں رابطہ کیا گیا اور گاڑی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بتایا ۔آفس سے فوری طور پہ گاڑی اور میرے کولیگز مجھے لینے آ گئے ۔واپس پہنچ کے مجھے کافی دن بخار کا سامنا کرنا پڑا ۔ بشیر لالہ بھی خیریت سے آفس پہنچ گئے تھے ۔

اب جب میں نے مری کی برفباری اور عجیب پراسرار سے ماحول کی تصاویر اور وڈیوز دیکھی ہیں میں کسی انجانے سے خوف میں مبتلا ہو گئی ہوں ۔

مجھے سردیاں بالکل بھی پسند نہیں ہیں نہ ہی برفباری ۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی اور ہی دنیا کا دروازہ کھل گیا ہے کہ جو سب کو اپنی طرف بلا رہا ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں داخل ہو رہے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے ۔جانے یہ کیسا امتحان ہے ۔

سعدیہ کوکب قریشی 

ایبٹ آباد پاکستان